ساغر صدیقی (1928–1974)

ساغر صدیقی ایک ایسے شاعر تھے جن کی زندگی اور شاعری دونوں درد و کرب کی گہری عکاس ہیں۔ امرتسر میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ انتہائی مفلسی اور خانہ بدوشی کے باوجود ان کی شاعری میں محبت، دکھ اور فقیرانہ بےنیازی کا امتزاج نمایاں ہے۔ وہ سڑکوں پر گزر بسر کرتے رہے، مگر ان کے اشعار آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ ساغر کی شاعری اس بات کی مثال ہے کہ فنکار کی داخلی دولت کبھی کبھی بیرونی حالات سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔

ساغر صدیقی کی غزلیں

ساغر صدیقی کی منتخب غزلیں، جن میں ہر غزل کا مکمل متن ایک خوبصورت کارڈ میں پیش کیا گیا ہے۔ کسی بھی غزل پر کلک کریں اور پھر اگلی یا پچھلی غزل کی طرف بڑھیں۔

✍️

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا

پڑھیں ←

✍️

مسکراؤ بہار کے دن ہیں

مسکراؤ بہار کے دن ہیں

پڑھیں ←

✍️

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

پڑھیں ←

✍️

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

پڑھیں ←

✍️

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا

پڑھیں ←

← اردو شاعری کے صفحے پر واپس جائیں

Recent Comments

No comments to show.