مسکراؤ بہار کے دن ہیں

ساغر صدیقی

مسکراؤ بہار کے دن ہیں

گل کھلاؤ بہار کے دن ہیں

دختران چمن کے قدموں پر

سر جھکاؤ بہار کے دن ہیں

مے نہیں ہے تو اشک غم ہی سہی

پی بھی جاؤ بہار کے دن ہیں

تم گیے رونق بہار گئی

تم نہ جاؤ بہار کے دن ہیں

ہاں کوئی واردات ساغرؔ و مے

کچھ سناؤ بہار کے دن ہیں

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.