سندر، کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں

پروین شاکر

سندر، کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں

دھوپ آنکھوں تک آ پہنچی ہے رات گزر گئی جاناں

بھَور سے تنک، جس نے ہمیں باہم الجھائے رکھا

وہ البیلی ریشم جیسی بات گزر گئی جاناں

سدا کی دیکھی رات ہے اس بار ملی تو پچھلے سے

خالی ہاتھ پہ رکھ کے کیا سوغات گزر گئی جاناں

کس کو نکہت کی آس میں اب تک ویسے ہی سرسبز ہوتم

اب تو دھوپ کا موسم ہے برسات گزر گئی جاناں

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.