یہ حوریان فرنگی ، دل و نظر کا حجاب

علامہ اقبال

یہ حوریان فرنگی ، دل و نظر کا حجاب

بہشت مغربیاں ، جلوہ ہائے پا بہ رکاب

دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا

مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گرداب

جہان صوت و صدا میں سما نہیں سکتی

لطیفہ ازلی ہے فغان چنگ و رباب

سکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے خانقہی

فقیہ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے خراب

وہ سجدہ ، روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی

اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب

سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے

دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہ سیماب

ہوائے قرطبہ! شاید یہ ہے اثر تیرا

مری نوا میں ہے سوز و سرور عہد شباب

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.