تو اے اسیر مکاں! لامکاں سے دور نہیں

علامہ اقبال

تو اے اسیر مکاں! لامکاں سے دور نہیں

وہ جلوہ گاہ ترے خاک داں سے دور نہیں

وہ مرغزار کہ بیم خزاں نہیں جس میں

غمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور نہیں

یہ ہے خلاصہ علم قلندری کہ حیات

خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں

فضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگے

قدم اٹھا ، یہ مقام آسماں سے دور نہیں

کہے نہ راہ نما سے کہ چھوڑ دے مجھ کو

یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور نہیں

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.