تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر

علامہ اقبال

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر

مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض ، اس کی جزا کچھ اور ہے

حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار

طائرک بلند بال ، دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب ، تجھ سے کشاد شرق و غرب

تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.