تمام لوگ اکیلے تھے، راہبر ہی نہ تھا

پروین شاکر

تمام لوگ اکیلے تھے، راہبر ہی نہ تھا

بچھڑنے والوں میں اک میرا ہم سفر ہی نہ تھا

برہنہ شاخوں کا جنگل تھا اور آنکھوں میں

وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا

نہ ہمارے شہر میں مہرباں ہم سفر تھی مگر

جہاں پہ دھوپ کڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا

سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو

ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا

میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی

کہ تیرے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا

→ پچھلی غزلاگلی غزل ←
تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.