کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری

علامہ اقبال

کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری

کمال ترک ہے تسخیر خاکی و نوری

میں ایسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آیا

تمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوری

نہ فقر کے لیے موزوں ، نہ سلطنت کے لیے

وہ قوم جس نے گنوایا متاع تیموری

سنے نہ ساقی مہ وش تو اور بھی اچھا

عیار گرمی صحبت ہے حرف معذوری

حکیم و عارف و صوفی ، تمام مست ظہور

کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری

وہ ملتفت ہوں تو کنج قفس بھی آزادی

نہ ہوں تو صحن چمن بھی مقام مجبوری

برا نہ مان ، ذرا آزما کے دیکھ اسے

فرنگ دل کی خرابی ، خرد کی معموری

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.