فیض احمد فیض (1911–1984)

فیض احمد فیض ترقی پسند اردو شاعری کے سب سے نمایاں نام ہیں۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اپنی شاعری میں روایتی غزل کے حسن کو سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ یکجا کیا۔ نقشِ فریادی اور دستِ صبا ان کے اہم مجموعے ہیں۔ فیض کی شاعری محبت، مزاحمت اور انسانی وقار کے موضوعات کو خوبصورتی سے جوڑتی ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید و بند کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان کی آواز مزاحمت اور امید کی علامت بن گئی۔ انہیں لینن امن انعام سے بھی نوازا گیا اور آج وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اردو شاعری کے سفیر سمجھے جاتے ہیں۔

فیض احمد فیض کی غزلیں

فیض احمد فیض کی منتخب غزلیں، جن میں ہر غزل کا مکمل متن ایک خوبصورت کارڈ میں پیش کیا گیا ہے۔ کسی بھی غزل پر کلک کریں اور پھر اگلی یا پچھلی غزل کی طرف بڑھیں۔

✍️

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

پڑھیں ←

✍️

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

پڑھیں ←

✍️

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا

پڑھیں ←

✍️

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

پڑھیں ←

✍️

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

پڑھیں ←

✍️

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

پڑھیں ←

✍️

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا

پڑھیں ←

✍️

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

پڑھیں ←

✍️

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

پڑھیں ←

✍️

ہر حقیقت مجاز ہو جائے

ہر حقیقت مجاز ہو جائے

پڑھیں ←

✍️

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

پڑھیں ←

✍️

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

پڑھیں ←

✍️

عشق منت کش قرار نہیں

عشق منت کش قرار نہیں

پڑھیں ←

✍️

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا

پڑھیں ←

✍️

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

پڑھیں ←

✍️

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

پڑھیں ←

✍️

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

پڑھیں ←

✍️

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں

پڑھیں ←

✍️

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

پڑھیں ←

✍️

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

پڑھیں ←

✍️

بات بس سے نکل چلی ہے

بات بس سے نکل چلی ہے

پڑھیں ←

← اردو شاعری کے صفحے پر واپس جائیں

Recent Comments

No comments to show.