رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

مرزا غالب

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار

اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.