ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

مرزا غالب

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں

دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں

باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور

لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں

دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے

یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.