محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: وفا۔

جفا کو وفا سمجھیں کب تک بھلا ہم

اب ایسے بھی ان کے نہیں مبتلا ہم

— حسرت موہانی

وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو

یہ نیرنگ محبت ہے کہ ایسا میں ہوں ویسا تو

— مضطر خیرآبادی

عشق سے پھر خطرۂ ترک وفا ہونے لگا

پھر فریب حسن سرگرم ادا ہونے لگا

— حسرت موہانی

جفا کی باتیں سدا بنانا وفا کی باتیں کبھی نہ کرنا

خدا کے گھر میں کمی نہیں ہے کیے میں اپنے کمی نہ کرنا

— مضطر خیرآبادی

کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا

یا یہی جور و جفا کیجئے گا

— مضطر خیرآبادی

وفائیں یاد کر کے وہ بہا جاتے ہیں روز آنسو

رہے گا حشر تک سرسبز سبزہ میری تربت کا

— اکبر وارثی میرٹھی
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.