محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: امید۔

پھر امیدوں کو شعاع کامرانی کر عطا

قسمت تاریک کو ہنگامۂ تنویر دے

— سیدہ خیرآبادی

دل میں جو رہتے تھے امید کی دنیا ہو کر

وہ چلے جاتے ہیں کیوں داغ تمنا ہو کر

— حیرت شاہ وارثی

امید نہیں اب کشتئ دل ساحل پہ سلامت جا پہنچے

دریائے الم بھی باڑھ پہ ہے اشکوں کی جدا طغیانی ہے

— احقر بہاری

یاس و امید یوں رہیں راہ طلب میں ساتھ ساتھ

چار قدم ہٹا دیا چار قدم بڑھا دیا

— ذکی وارثی

میں تری امید میں ہستی مٹا کر مٹ گیا

اب تو اک ٹھوکر لگا دے پائے جانانہ مجھے

— مضطر خیرآبادی

عزیزوں سے امید مضطرؔ فضول

توقع کی دنیا فنا ہو گئی

— مضطر خیرآبادی
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.