محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: محبت۔
میں جیا بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی
یہ نہ کھل سکا لیکن آپ کی خوشی کیا تھی
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
ذرے کو لے کے پھرتا ہے یہ آسمان میں
ہے عشق سے عظیم کوئی شے جہان میں
کل آتے آتے مرے گھر گئے رقیب کے پاس
حضور آپ ہی کہہ دیں یہ چال ہے کہ نہیں
میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہئے کیا جگرؔ
غم یار ہے مرا شیفتہ میں فریفتہ غم یار پر
مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر
وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے
حوصلہ تیغ جفا کا رہ نہ جائے
آئیے خون تمنا کیجیے
کسی بت کی ادا نے مار ڈالا
بہانے سے خدا نے مار ڈالا
نہیں ہے یہ قاتل تغافل کا وقت
خبر لے کہ باقی ابھی جان ہے
گلشن جنت کی کیا پروا ہے اے رضواں انہیں
ہیں جو مشتاق بہشت جاودان کوئے دوست
تجھ سے ملنے کا بتا پھر کون سا دن آئے گا
عید کو بھی مجھ سے گر اے میری جاں ملتا نہیں
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے
ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
مہکنے کو گل داغ محبت دل میں ہے اپنے
کھٹکنے کو ہے خار حسرت دیدار آنکھوں میں
میں نے پوچھا غیر کے گھر آپ کیا کرتے رہے
ہنس کے فرمایا تمہارا راستا دیکھا کئے
تری آمادگی قاتل تبسم ہے محبت کا
توجہ گر نہیں مضمر تو قصد امتحاں کیوں ہو
لوگ کہتے ہیں محبت میں خدا ملتا ہے
لیکن اپنی ہے یہ حالت کہ خدا یاد نہیں
ہم میں اور ان میں محبت یا خدا ایسی تو ہو
جو سنے وہ بول اٹھے مہر ووفا ایسی تو ہو
مجھ کو تاخیر کا شکوہ نہیں ہاں اور سنو
آئینہ تیرا ہے زلفیں تیری شانا تیرا
خدایا خیر کرنا نبض بیمار محبت کی
کئی دن سے بہت برہم مزاج ناتوانی ہے
گو ہوئے فرقت کبھی تو کیا جمال یار سے
دم بدم ان کی محبت دل میں گھر پاتی رہی
محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے
خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری
آسیؔ گریاں ملا محبوب سے
گل سے شبنم جس طرح رو کر ملے
کہاں ممکن ہے کس سے انتظار یار ہو مجھ سا
رہے گی پھر بھی یوں ہی مثل نرگس آنکھ وا کس کی