محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: محبت۔

میں جیا بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی

یہ نہ کھل سکا لیکن آپ کی خوشی کیا تھی

— سیماب اکبرآبادی

غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف

وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے

— حسرت موہانی

ذرے کو لے کے پھرتا ہے یہ آسمان میں

ہے عشق سے عظیم کوئی شے جہان میں

— امن اقبال

کل آتے آتے مرے گھر گئے رقیب کے پاس

حضور آپ ہی کہہ دیں یہ چال ہے کہ نہیں

— جوش ملیح آبادی

میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہئے کیا جگرؔ

غم یار ہے مرا شیفتہ میں فریفتہ غم یار پر

— جگر مرادآبادی

مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر

وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے

— حسرت موہانی

حوصلہ تیغ جفا کا رہ نہ جائے

آئیے خون تمنا کیجیے

— آسی غازی پوری

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

بہانے سے خدا نے مار ڈالا

— مضطر خیرآبادی

نہیں ہے یہ قاتل تغافل کا وقت

خبر لے کہ باقی ابھی جان ہے

— خواجہ میر اثر

گلشن جنت کی کیا پروا ہے اے رضواں انہیں

ہیں جو مشتاق بہشت جاودان کوئے دوست

— امیر مینائی

تجھ سے ملنے کا بتا پھر کون سا دن آئے گا

عید کو بھی مجھ سے گر اے میری جاں ملتا نہیں

— اکبر وارثی میرٹھی

کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے

ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے

— فنا نظامی کانپوری

مہکنے کو گل داغ محبت دل میں ہے اپنے

کھٹکنے کو ہے خار حسرت دیدار آنکھوں میں

— کیفی حیدرآبادی

میں نے پوچھا غیر کے گھر آپ کیا کرتے رہے

ہنس کے فرمایا تمہارا راستا دیکھا کئے

— میکش اکبرآبادی

تری آمادگی قاتل تبسم ہے محبت کا

توجہ گر نہیں مضمر تو قصد امتحاں کیوں ہو

— میکش اکبرآبادی

لوگ کہتے ہیں محبت میں خدا ملتا ہے

لیکن اپنی ہے یہ حالت کہ خدا یاد نہیں

— ولی وارثی

ہم میں اور ان میں محبت یا خدا ایسی تو ہو

جو سنے وہ بول اٹھے مہر ووفا ایسی تو ہو

— کیفی حیدرآبادی

مجھ کو تاخیر کا شکوہ نہیں ہاں اور سنو

آئینہ تیرا ہے زلفیں تیری شانا تیرا

— کیفی حیدرآبادی

خدایا خیر کرنا نبض بیمار محبت کی

کئی دن سے بہت برہم مزاج ناتوانی ہے

— جگر مرادآبادی

گو ہوئے فرقت کبھی تو کیا جمال یار سے

دم بدم ان کی محبت دل میں گھر پاتی رہی

— مردان صفی

محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے

خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

— مضطر خیرآبادی

آسیؔ گریاں ملا محبوب سے

گل سے شبنم جس طرح رو کر ملے

— آسیؔ غازی پوری

کہاں ممکن ہے کس سے انتظار یار ہو مجھ سا

رہے گی پھر بھی یوں ہی مثل نرگس آنکھ وا کس کی

— آسیؔ غازی پوری
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.