محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: غم۔

نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا

مرے عمر بھر اور مرنا نہ آیا

— ریاض خیرآبادی

احساس کے میخانے میں کہاں اب فکر و نظر کی قندیلیں

آلام کی شدت کیا کہئے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

— ساغر صدیقی

تم مرے رونے پے ہنستے ہو خدا ہنستا رکھے

یہ بھی کیا کم ہے کہ رو کر تو ہنسا سکتا ہوں، میں

— کامل شطاری

ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ

دل میں کسی کو یاد کیا اور رو لیے

— شمیم جے پوری

اس نے خط بھیجا جو مجھ کو ڈاک پر ڈاکہ پڑا

یار کیا کرتا نہ تھا میرے مقدر کا جواب

— امیر مینائی

باغ عالم میں ہمیں پھولنے پھلنے نہ دیا

آسماں نے کوئی ارماں نکلنے نہ دیا

— کوثر خیرآبادی

خون عشاق سے قاتل نے نہ کھیلی ہولی

صف مقتل میں کبھی رنگ اچھلنے نہ دیا

— کوثر خیرآبادی

یہ ہیں خون بسمل کی دھاریں اے قاتل

تری آنکھوں میں سرخ ڈورے نہیں ہیں

— سنجر غازی پوری

غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے

یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا

— فنا نظامی کانپوری

بجھ رہے ہیں چراغ اشکوں کے

کیسے تابندہ رات کی جائے

— صادق دہلوی

نہیں ہوتی وفا کی منزلیں آساں کبھی اس پر

محبت میں جو ہستی آشنائے غم نہیں ہوتی

— صادق دہلوی

وصل عین دوری ہے بے خودی ضروری ہے

کچھ بھی کہہ نہیں سکتا ماجرا جدائی کا

— عزیز صفی پوری

چاٹتی ہے کیوں زبان تیغ قاتل بار بار

بے نمک چھڑکے یہ زخموں میں مزا کیونکر ہوا

— امیر مینائی

اس ادا سے میں نے دیکھے داغ اپنے خون کے

اک تماشا روز محشر ان کا داماں ہو گیا

— میکش اکبرآبادی

گلشن میں جا کے داغ جگر جب دکھا دیا

پھولوں کو ہم نے پیکر حیرت بنا دیا

— ولی وارثی

کھلنے لگی اگر کوئی امید کی کلی

برق الم تڑپ کے گری اور جلا دیا

— ولی وارثی

ستاتا ہے مجھے صیاد ظالم اس لیے شاید

کہ رونق اس کے گلشن کی مرے شغل فغاں تک ہے

— ولی وارثی

انہیں آنسو سمجھ کر یوں نہ مٹی میں ملا ظالم

پیام درد و دل ہے اور آنکھوں کی زبانی ہے

— جگر مرادآبادی

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا

گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا

— احسن اللہ خاں بیان

فرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم

مجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی

— احسن اللہ خاں بیان

قبر پر میری اگر فاتحہ پڑھنے کے لیے

وہ جو آ جائیں تو تھرا اٹھے تربت میری

— مردان صفی

مری انتہائے وفا کچھ نہ پوچھ

جفا دیکھ جو لا تعد ہو گئی

— مضطر خیرآبادی

خدا جانے مری مٹی ٹھکانے کب لگے مضطرؔ

بہت دن سے جنازہ کوچۂ قاتل میں رکھا ہے

— مضطر خیرآبادی

وہی اب بعد مردن قبر پر آنسو بہاتے ہیں

نہ آیا تھا جنہیں میری محبت کا یقیں برسوں

— مضطر خیرآبادی
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.