محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: غم۔
نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا
مرے عمر بھر اور مرنا نہ آیا
احساس کے میخانے میں کہاں اب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شدت کیا کہئے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
تم مرے رونے پے ہنستے ہو خدا ہنستا رکھے
یہ بھی کیا کم ہے کہ رو کر تو ہنسا سکتا ہوں، میں
ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ
دل میں کسی کو یاد کیا اور رو لیے
اس نے خط بھیجا جو مجھ کو ڈاک پر ڈاکہ پڑا
یار کیا کرتا نہ تھا میرے مقدر کا جواب
باغ عالم میں ہمیں پھولنے پھلنے نہ دیا
آسماں نے کوئی ارماں نکلنے نہ دیا
خون عشاق سے قاتل نے نہ کھیلی ہولی
صف مقتل میں کبھی رنگ اچھلنے نہ دیا
یہ ہیں خون بسمل کی دھاریں اے قاتل
تری آنکھوں میں سرخ ڈورے نہیں ہیں
غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے
یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا
بجھ رہے ہیں چراغ اشکوں کے
کیسے تابندہ رات کی جائے
نہیں ہوتی وفا کی منزلیں آساں کبھی اس پر
محبت میں جو ہستی آشنائے غم نہیں ہوتی
وصل عین دوری ہے بے خودی ضروری ہے
کچھ بھی کہہ نہیں سکتا ماجرا جدائی کا
چاٹتی ہے کیوں زبان تیغ قاتل بار بار
بے نمک چھڑکے یہ زخموں میں مزا کیونکر ہوا
اس ادا سے میں نے دیکھے داغ اپنے خون کے
اک تماشا روز محشر ان کا داماں ہو گیا
گلشن میں جا کے داغ جگر جب دکھا دیا
پھولوں کو ہم نے پیکر حیرت بنا دیا
کھلنے لگی اگر کوئی امید کی کلی
برق الم تڑپ کے گری اور جلا دیا
ستاتا ہے مجھے صیاد ظالم اس لیے شاید
کہ رونق اس کے گلشن کی مرے شغل فغاں تک ہے
انہیں آنسو سمجھ کر یوں نہ مٹی میں ملا ظالم
پیام درد و دل ہے اور آنکھوں کی زبانی ہے
میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا
گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا
فرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم
مجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی
قبر پر میری اگر فاتحہ پڑھنے کے لیے
وہ جو آ جائیں تو تھرا اٹھے تربت میری
مری انتہائے وفا کچھ نہ پوچھ
جفا دیکھ جو لا تعد ہو گئی
خدا جانے مری مٹی ٹھکانے کب لگے مضطرؔ
بہت دن سے جنازہ کوچۂ قاتل میں رکھا ہے
وہی اب بعد مردن قبر پر آنسو بہاتے ہیں
نہ آیا تھا جنہیں میری محبت کا یقیں برسوں