محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر دو مصرعوں پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: فطرت۔

بہار لالہ وگل لطف سبزہ وسنبل

مزہ تھا ہم جو گلستان میں آج کل جاتے

— اسیر لکھنوی

گل ترے گلشن ہے تیرا سب بہاریں ہیں تیری

آشیان و برق سب کہتے ہیں افسانہ ترا

— قیصرؔ شاہ وارثی

فصل بہار میں تو قید قفس میں گزری

چھوٹے جو اب قفس سے تو موسم خزاں ہے

— حیرت شاہ وارثی

بہار آنے کی آرزو کیا بہار خود ہے نظر کا دھوکا

ابھی چمن جنت نظر ہے ابھی چمن کا پتا نہیں ہے

— افقر موہانی

رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسا

بے چراغ آج ہے ہر ایک نشیمن کیسا

— ریاض خیرآبادی

کم نہیں گلشن میں شبنم گل بدن گل پیرہن

غسل کر مل مل کے گر آب رواں ملتا نہیں

— اکبر وارثی
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.