محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر چار مصرعوں (رباعیوں) پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: زندگی۔
یہ بھیڑ یہ دھوم تا قیامت رکھے
تا دیر جہاں میں با کرامت رکھے
ملتی ہے یہاں سکوں کی جنس نایاب
اللہ ترے در کو سلامت رکھے
مالک ہیں دکانیں ہیں نہ وہ سودا ہے
اسلاف کا وہ علم نہ وہ تقویٰ ہے
اک عہدۂ نذرانہ وصولی کے سوا
اس دور کی سجادہ نشینی کیا ہے
اے شیخ یہ زہد خود نما کچھ بھی نہیں
یہ مکر یہ شیوۂ ریا کچھ بھی نہیں
دانوں کا گھماؤ زیادہ کم جنبش لب
تسبیح میں چکر کے سوا کچھ بھی نہیں
شاگرد وحید کے ہیں دونوں اکبرؔ
ہم مشق بھی ہم دونوں رہے ہیں اکثر
لیکن قدرت کا صاد ان پر ہی ہوا
پتھر پتھر ہے اور جوہر جوہر
مرے گناہ پہ ان زاہدوں کو حیرت ہے
یہ آدمی کو فرشتہ خیال کر بیٹھے
خبر نہیں کہ ہے کاجل کی کوٹھری دنیا
یہاں جو بیٹھے وہ دامن سنبھال کر بیٹھے
ہے عیب سے کون سا سخنداں خالی
کانٹوں سے نہیں کوئی گلستاں خالی
اکبرؔ ہے بھول چوک زیور اپنا
ممکن ہے کہ ہو خطا سے انساں خالی
زوروں پہ ہے آج لن ترانی اپنی
کل یاروں میں ہوگی قصہ خوانی اپنی
دم بھر کا بھی ٹھہراؤ نہیں دنیا میں
ہے سایۂ ابر زندگانی اپنی
اکبرؔ نہیں دل میرا کسی سے بد ظن
میں دوست ہوں اس کا جو ہے میرا دشمن
یہ علم ہے جو کرتا ہے دل کو روشن
مرشد نے پڑھایا مجھے اخلاق کا فن
شہرے کرم پیر خرابات کے ہیں
جلسے وہیں رندان خوش اوقات کے ہیں
منکر تھے مگر یہ ذکر سنتے سنتے
زہاد بھی مشتاق ملاقات کے ہیں
دنیا سے عدم کی سمت جاتے جاتے
بگڑے ہوئے کیا کام بناتے جاتے
آنا جانا تھا اپنا مانند نفس
تاخیر ذرا ہوئی نہ آتے جاتے
کر دور مرے دل سے غبار کثرت
تا آوے نہ فہم میں دوئی کی نسبت
تجھ سے میں تجھی کو مانگتا ہوں صاحب
رکھیو مری آنکھوں میں ہمیشہ وحدت
ہستی نے وجود اگر نہ پایا ہوتا
دنیا کا یہ رنج کیوں اٹھایا ہوتا
سب عمر کٹی گناہ کرتے کرتے
اے کاش جہاں میں میں نہ آیا ہوتا
یہ ملک جہاں بظاہر آباداں ہے
آباد جو ہے آج وہ کل ویراں ہے
گر دیدۂ تحقیق سے دیکھے کوئی
جو شہر کہ آباد ہے گورستاں ہے
گم نامی و نام چند روزہ سمجھو
نا کامی و کام چند روزہ سمجھو
اوروں کا غم مرگ جمالیؔ کب تک
اپنا ہی قیام چند روزہ سمجھو