محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر چار مصرعوں (رباعیوں) پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: محبت۔

کہتا ہے کوئی کہ گلستاں کو دیکھا

کہتا ہے کوئی کہ ایں و آں کو دیکھا

فرمایا مجھے عشقؔ نے اس بات کو سن

جب آپ کو دیکھا تو جہاں کو دیکھا

— خواجہ رکن الدین عشقؔ

دل جان کو رو رو کے عبث کھوتا ہے

احوال پہ تیرے تو جہاں روتا ہے

دل ہنس کے لگا کہنے کہ سن مجھ سے عشقؔ

ایسا ہی محبت میں میاں ہوتا ہے

— خواجہ رکن الدین عشقؔ

اوروں کو تو دنیا میں قضا نے مارا

دی زیست خدا نے پھر خدا نے مارا

ہر صورت مرگ و زیست اپنی ہے جدا

اس لب نے جلایا تھا ادا نے مارا

— امیر مینائی

مشکل سے تجھے او گل رعنا پایا

کونین میں پھر کر ترا کوچہ پایا

دنیا عقبیٰ سے عاشقی حاصل کی

صغرا کبریٰ سے یہ نتیجہ پایا

— امیر مینائی

عاشق کو کہاں شکیب شیدا ہو کر

دل زندۂ جاوید ہے مردا ہو کر

پیوند زمیں کرے جو مج کو گردوں

گرد اس کے پھرے خاک بگولا ہو کر

— امیر مینائی

کچھ تو ہمیں گلشن سے اجی ہات لگے

کھل جائے کنول دل کا کلی ہاتھ لگے

عارض نہ دکھاؤ اک نظر دیکھ تو لو

گر پھول نہیں تو پنکھڑی ہاتھ لگے

— امیر مینائی
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.