محبت، غم اور زندگی کے موضوع پر چار مصرعوں (رباعیوں) پر مشتمل چیدہ اشعار — یہ زمرہ: غم۔

خم ہے سر انساں تو حرم میں کچھ ہے

لوگ اشک بہاتے ہیں تو غم میں کچھ ہے

بے وجہ کسی پر نہیں مرتا کوئی

ہم پر کوئی مرتا ہے تو ہم میں کچھ ہے

— پیر نصیرالدین نصیرؔ

مدت ہوئی گو دل کی مدارات نہیں

جس طرح سے تھی تیری ملاقات نہیں

جو گزری میاں گزری پہ یہ سخت غضب

جس بات پر ہم مرتے تھے سو بات نہیں

— خواجہ رکن الدین عشقؔ

آیا ہے جمالیؔ یہ زمانہ کیسا

نایاب ہوا ہے آب و دانہ کیسا

ہے پیٹ کو روٹی نہ بدن کو کپڑا

رونے سے نہیں فراغ گانا کیسا

— قاضی عمراؤ علی جمالیؔ

ہے عبرت محض انقلابات جہاں

اک حال پہ کوئی نہیں رہتا ہے یہاں

ہے شاہ کبھی گدا گدا شاہ کبھی

آباد جو کل تھا آج ہے وہ ویراں

— قاضی عمراؤ علی جمالیؔ

گرداب نہیں عمر کا سفینہ ہوگا

اور موت کا ماتھے پہ پسینہ ہوگا

اس وقت مرے دل کے نگینے پہ ظفرؔ

کندہ خط طغرا میں مدینہ ہوگا

— شاہ ظفر سجاد داناپوریؔ
← تمام اقسام دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.